تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I ماہِ رمضان کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ وہ عبادت کو چند مخصوص اوقات میں مقید نہیں کرتا، بلکہ زندگی کے پورے دن کو بندگی کے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ اس مہینے میں عبادت کسی ایک خاص وقت کی کیفیت نہیں رہتی، بلکہ سحر کی خاموشی سے افطار کی روشنی تک ایک مسلسل روحانی سفر بن جاتی ہے۔ جو شخص اس یومیہ نظم کو سمجھ لیتا ہے، اس کے لیے رمضان محض روزوں کا بوجھ نہیں رہتا، بلکہ دل و عمل کی تربیت کا ایک منظم اور بامقصد نظام بن جاتا ہے۔
سحر: نیت اور بیداری کا لمحہ
سحر رمضان کا پہلا تحفہ ہے۔ یہ وہ ساعت ہے جب نیند کی دبیز تہیں، رات کی خاموشی اور تنہائی مل کر دل کو نرم اور شفاف بنا دیتی ہیں۔ اس وقت کھانا محض جسم کو سہارا دینے کا نام نہیں، بلکہ عبادت کی نیت کو تازہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ سحر میں انسان اپنے رب کے حضور یہ عہد دہراتا ہے کہ آج کا دن خواہ کیسا بھی ہو، وہ اسے فرمانِ الٰہی کے دائرے میں گزارے گا۔
اہلِ بصیرت کے نزدیک سحر کی اصل دولت یہ ہے کہ انسان دن کا آغاز خدا کی یاد سے کرتا ہے۔ یہی یاد پھر دن بھر اس کے لہجے، فیصلوں اور رویّوں میں جھلکتی رہتی ہے۔ قرآن اسی شعور کی طرف یوں متوجہ کرتا ہے:﴿وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ ترجمہ: اور وہ سحر کے اوقات میں استغفار کیا کرتے ہیں۔
دن: ضبط اور شعور کی مشق
سحر کے بعد دن کا آغاز ہوتا ہے—اور یہی روزے کا اصل میدان ہے۔ یہاں عبادت کتابوں کے اوراق سے نکل کر زندگی کی گلیوں میں اترتی ہے۔ دفتر ہو یا بازار، گھر ہو یا سفر، روزہ انسان سے صرف بھوک برداشت کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اخلاقی ضبط کا تقاضا کرتا ہے۔
غصے کو پی جانا، گفتگو میں نرمی اختیار کرنا، اور معاملات میں دیانت کو ترجیح دینا—یہ سب روزے کے عملی مظاہر ہیں۔ اسی مرحلے پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ روزہ محض ایک رسم ہے یا واقعی انسان کے باطن کو بدل رہا ہے۔ قرآن اسی ضبطِ نفس کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتا ہے: ﴿لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ ترجمہ: تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
ظہر و عصر: یاد دہانی کے وقفے
دن کے بیچ میں ظہر اور عصر کی نمازیں انسان کو رکنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔ یہ چند لمحوں کا توقف یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں خدا کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ روزے کے ساتھ ادا کی گئی نماز دل میں توازن پیدا کرتی ہے—نہ دنیا سے فرار، نہ عبادت سے غفلت۔
یہاں کی گئی مختصر دعا یا استغفار دن کی جسمانی تھکن کو روحانی طاقت میں بدل دیتا ہے، اور انسان نئے حوصلے کے ساتھ اپنے معمولات کی طرف لوٹتا ہے۔
افطار سے پہلے: عاجزی اور امید
افطار سے پہلے کے چند لمحے رمضان کی سب سے نازک اور بابرکت گھڑیاں ہوتی ہیں۔ بھوک اپنی انتہا پر ہوتی ہے اور دل بے ساختہ دعا کی طرف جھک جاتا ہے۔ اس وقت انسان اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے—کمزور، محتاج اور سراپا امید۔
یہی وہ کیفیت ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس وقت کی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے، کیونکہ یہاں کوئی دکھاوا نہیں، صرف احتیاج اور خلوص ہوتا ہے۔
افطار: شکر اور اعتدال
افطار کا وقت خوشی ضرور لاتا ہے، مگر رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ یہ خوشی شکر میں ڈھل جائے، اسراف میں نہیں۔ چند لقمے، ایک دعا، اور دل کا یہ اعتراف کہ جو کچھ ملا ہے وہ محض خدا کی عطا ہے—یہی افطار کی اصل روح ہے۔
افطار کے بعد عبادت کا دروازہ دوبارہ کھلتا ہے، مگر اب جسمانی کمزوری کے بجائے روحانی تازگی کے ساتھ۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی سیرت ہمیں یہی توازن سکھاتی ہے کہ عبادت انسان کو تھکاتی نہیں، بلکہ سنوارتی ہے۔









آپ کا تبصرہ